Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2210 (سنن الترمذي)

[2210] إسنادہ ضعیف

الفرج بن فضالۃ الشامي: ضعیف (أبي داود: 484)

انوار الصحیفہ ص 247

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللہِ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ أَبُو فَضَالَةَ الشَّامِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِہَا الْبَلَاءُ فَقِيلَ وَمَا ہُنَّ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِذَا كَانَ الْمَغْنَمُ دُوَلًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَہُ وَعَقَّ أُمَّہُ وَبَرَّ صَدِيقَہُ وَجَفَا أَبَاہُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَہُمْ وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّہِ وَشُرِبَتْ الْخُمُورُ وَلُبِسَ الْحَرِيرُ وَاتُّخِذَتْ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَلَعَنَ آخِرُ ہَذِہِ الْأُمَّةِ أَوَّلَہَا فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاہُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ وَالْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ قَدْ تَكَلَّمَ فِيہِ بَعْضُ أَہْلِ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَہُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہِ وَقَدْ رَوَاہُ عَنْہُ وَكِيعٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب میری امت پندرہ چیزیں کر نے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہوگی،عرض کیاگیا: اللہ کے رسول! وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب مال غنیمت کودولت،امانت کو غنیمت اور زکاۃ کوتاوان سمجھا جائے،آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے،اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا،اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پرظلم کرے،مساجد میں آواز یں بلندہونے لگیں،رذیل آدمی قوم کا لیڈربن جائے گا،شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے،شراب پی جائے،ریشم پہناجائے،(گھروں میں) گانے والی لونڈیاں اورباجے رکھے جائیں اوراس امت کے آخرمیں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تواس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اورصورت تبدیل ہونے کا انتظارکرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں،۲-ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحیی بن سعید انصاری سے روایت کی ہواورفرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اوران کے حافظے کیتعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے،ان سے وکیع اورکئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔