Jamia al-Tirmidhi Hadith 229 (سنن الترمذي)
[229]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَی بْنِ ہَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ الْمُرَادِيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ صَلَّيْنَا خَلْفَ أَمِيرٍ مِنْ الْأُمَرَاءِ فَاضْطَرَّنَا النَّاسُ فَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَلَمَّا صَلَّيْنَا قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كُنَّا نَتَّقِي ہَذَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَفِي الْبَاب عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِہَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَفَّ بَيْنَ السَّوَارِي وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیرکے پیچھے صلاۃ پڑھی،لوگوں نے ہمیں دوستونوں کے درمیان صلاۃ پڑھنے پرمجبورکردیا ۱؎ جب ہم صلاۃ پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۳-علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں،اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ۲ ؎۔