Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 230 (سنن الترمذي)

[230]صحیح

مشکوۃ المصابیح (1105)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ فَقَامَ بِي عَلَی شَيْخٍ يُقَالُ لَہُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَقَالَ زِيَادٌ حَدَّثَنِي ہَذَا الشَّيْخُ أَنَّ رَجُلًا صَلَّی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ كَرِہَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہُ وَقَالُوا يُعِيدُ إِذَا صَلَّی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہُ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ يُجْزِئُہُ إِذَا صَلَّی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہُ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَقَدْ ذَہَبَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ إِلَی حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا قَالُوا مَنْ صَلَّی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہُ يُعِيدُ مِنْہُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَی وَوَكِيعٌ وَرَوَی حَدِيثَ حُصَيْنٍ عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَی أَنَّ ہِلَالًا قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْحَدِيثِ فِي ہَذَا فَقَالَ بَعْضُہُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُہُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ لِأَنَّہُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا،(ہم لوگ رقہ میں تھے) پھر انہوں نے مجھے لے جاکر بنی اسد کے وابصہ بن معبدنامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اورشیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا صلاۃ پڑھی تو رسول اللہﷺ نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا صلاۃ پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا صلاۃ پڑھی ہے تووہ صلاۃدہرائے،یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں،۴-اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہاہے کہ اسے کافی ہوگا جب وہ صف کے پیچھے تنہا صلاۃ پڑھے،سفیان ثوری،ابن مبارک اورشافعی کابھی یہی قول ہے،۵-اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں،ان لوگوں کاکہناہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا صلاۃ پڑھے،وہ اسے دہرائے۔انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان،ابن ابی لیلی اوروکیع ہیں،۶-مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکرکے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرّہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق ہلال بن یساف،عن عمرو بن راشد،عن وابصۃ روایت کی ہے،زیادہ صحیح ہے،اوربعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق ہلال بن یساف،عن زیاد بن أبی الجعد عن وابصۃ روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیادبن ابی الجعدکے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔