Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2316 (سنن الترمذي)

[2316] إسنادہ ضعیف

الأعمش عنعن ولم یسمع من أنس رضي اللہ عنہ

انوار الصحیفہ ص 251

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَقَالَ يَعْنِي رَجُلًا أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَوَلَا تَدْرِي فَلَعَلَّہُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيہِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُہُ قَالَ ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہوگئی،ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بے فائدہ ہو،یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔