Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2321 (سنن الترمذي)

[2321] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (4111)

مجالد ضعیف

انوار الصحیفہ ص 251، 252

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ وَقَفُوا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی السَّخْلَةِ الْمَيِّتَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَتَرَوْنَ ہَذِہِ ہَانَتْ عَلَی أَہْلِہَا حِينَ أَلْقَوْہَا قَالُوا مِنْ ہَوَانِہَا أَلْقَوْہَا يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ فَالدُّنْيَا أَہْوَنُ عَلَی اللہِ مِنْ ہَذِہِ عَلَی أَہْلِہَا وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُسْتَوْرِدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ

مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس کھڑے تھے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کیاتم لوگ اسے دیکھ رہے ہو کہ جب یہ اس کے مالکوں کے نزدیک حقیراوربے قیمت ہوگیا تو انہوں نے اسے پھینک دیا،صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی بے قیمت ہونے کی بنیادہی پر لوگوں نے اسے پھینک دیا ہے،آپ نے فرمایا: دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیراوربے وقعت ہے جتنا یہ اپنے لوگوں کے نزدیک حقیراوربے وقعت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-مستورد رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔