Jamia al-Tirmidhi Hadith 2340 (سنن الترمذي)
[2340] إسنادہ ضعیف جدًا
ابن ماجہ (4100)
عمرو بن واقد: متروک (تقریب: 5132)وقال الھیثمی: وقد ضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 286)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الزَّہَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ وَلَكِنَّ الزَّہَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيْ اللہِ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِہَا أَرْغَبَ فِيہَا لَوْ أَنَّہَا أُبْقِيَتْ لَكَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُہُ عَائِذُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے اور مال کوبربادکردے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جومال تمہارے ہاتھ میں ہے،اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہوکہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ توخواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲-راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں۔