Jamia al-Tirmidhi Hadith 2341 (سنن الترمذي)
[2341]حسن
وأعلہ الإمام أحمد کما في المنتخب من العلل للخلال (3) لعلۃ غیر قادحۃ۔ وقال الدارقطني في حریث بن السائب: ’’ووھم فیہ‘‘ (العلل للدارقطنی: 3/ 29 رقم: 562)۔ فائدۃ: قول النضر بن شمیل صحیح عنہ مشکوۃ المصابیح (5186)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ قَال سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنِي حُمْرَانُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَی ہَذِہِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْكُنُہُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَہُ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہُوَ حَدِيثُ الْحُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنَ سَلْمٍ الْبَلْخِيَّ يَقُولُ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جِلْفُ الْخُبْزِ يَعْنِي لَيْسَ مَعَہُ إِدَامٌ
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:دنیا کی چیزوں میں سے ابن آدم کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے لیے ایک گھرہو جس میں وہ زندگی بسرکرسکے اور اتنا کپڑا ہو جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپ سکے،اور روٹی اور پانی کے لیے برتن ہوں جن سے وہ کھانے پینے کا جتن کرسکے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-یہ حدیث حریث بن سائب کی روایت سے ہے،۳-میں نے ابوداود سلیمان بن سلم بلخی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نضر بن شمیل نے کہا: جلف الخبز کا مطلب ہے وہ روٹی ہے جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔