Jamia al-Tirmidhi Hadith 236 (سنن الترمذي)
[236]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمْ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيہِمْ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ فَإِذَا صَلَّی وَحْدَہُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَمَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَأَبِي وَاقِدٍ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا أَنْ لَا يُطِيلَ الْإِمَامُ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ الْمَشَقَّةِ عَلَی الضَّعِيفِ وَالْكَبِيرِ وَالْمَرِيضِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو الزِّنَادِ اسْمُہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ ذَكْوَانَ وَالْأَعْرَجُ ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الْمَدِينِيُّ وَيُكْنَی أَبَا دَاوُدَ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے توچاہئے کہ ہلکی صلاۃ پڑھائے،کیونکہ ان میں چھوٹے،بڑے،کمزور اور بیمارسبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا صلاۃ پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عدی بن حاتم،انس،جابر بن سمرہ،مالک بن عبداللہ،ابو واقد،عثمان،ابو مسعود،جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-یہی اکثر اہل علم کا قول ہے،ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام صلاۃ لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور،بوڑھے اور بیمارلوگوں کو پریشانی نہ ہو۔ وضاحت ۱؎: ہلکی صلاۃ پڑھائے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ارکان کی ادائیگی میں اطمینان وسکون اور خشوع وخضوع اوراعتدال نہ ہو،تعدیل ارکان فرض ہے،نیز اگلی حدیث سے واضح ہے کہ نبی اکرمﷺ ہلکی صلاۃ پڑھاتے تھے تب بھی کامل صلاۃ پڑھاتے حتی کہ مغرب میں بھی سورہ طوریا سورہ المرسلات پڑھتے تھے۔