Jamia al-Tirmidhi Hadith 2369 (سنن الترمذي)
[2369] إسنادہ ضعیف
عبد الملک بن عمیر مدلس و عنعن (یأتي: 3659)
والحدیث الآتي (الأصل: 2822) حسن بالشواھد
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ فِي سَاعَةٍ لَا يَخْرُجُ فِيہَا وَلَا يَلْقَاہُ فِيہَا أَحَدٌ فَأَتَاہُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ خَرَجْتُ أَلْقَی رَسُولَ اللہِ ﷺ وَأَنْظُرُ فِي وَجْہِہِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْہِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ قَالَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ فَانْطَلَقُوا إِلَی مَنْزِلِ أَبِي الْہَيْثَمِ بْنِ التَّيْہَانِ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَہُ خَدَمٌ فَلَمْ يَجِدُوہُ فَقَالُوا لِامْرَأَتِہِ أَيْنَ صَاحِبُكِ فَقَالَتْ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْہَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُہَا فَوَضَعَہَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ النَّبِيَّ ﷺ وَيُفَدِّيہِ بِأَبِيہِ وَأُمِّہِ ثُمَّ انْطَلَقَ بِہِمْ إِلَی حَدِيقَتِہِ فَبَسَطَ لَہُمْ بِسَاطًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِقِنْوٍ فَوَضَعَہُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَفَلَا تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِہِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْتَارُوا أَوْ قَالَ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِہِ وَبُسْرِہِ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظِلٌّ بَارِدٌ وَرُطَبٌ طَيِّبٌ وَمَاءٌ بَارِدٌ فَانْطَلَقَ أَبُو الْہَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَہُمْ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ قَالَ فَذَبَحَ لَہُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَأَتَاہُمْ بِہَا فَأَكَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ ہَلْ لَكَ خَادِمٌ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا فَأُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَہُمَا ثَالِثٌ فَأَتَاہُ أَبُو الْہَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ اخْتَرْ مِنْہُمَا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللہِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ ہَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُہُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِہِ مَعْرُوفًا فَانْطَلَقَ أَبُو الْہَيْثَمِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ امْرَأَتُہُ مَا أَنْتَ بِبَالِغٍ مَا قَالَ فِيہِ النَّبِيُّ ﷺ إِلَّا أَنْ تَعْتِقَہُ قَالَ فَہُوَ عَتِيقٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ اللہَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا خَلِيفَةً إِلَّا وَلَہُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُہُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَاہُ عَنْ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوہُ خَبَالًا وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَرَجَ يَوْمًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَحَدِيثُ شَيْبَانَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَأَطْوَلُ وَشَيْبَانُ ثِقَةٌ عِنْدَہُمْ صَاحِبُ كِتَابٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ ہَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ ہَذَا الْوَجْہِ وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتاتھا،پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ا س لیے نکلاتاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں او ر آپ پرسلام پیش کروں،کچھ وقفے کے بعد عمر بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے،آپ نے پوچھا: عمر!تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی،آپ نے فرمایا: مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎،پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے،ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگران کا کوئی خادم نہیں تھا،ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا توان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیاکہ وہ ہمارے لیے میٹھاپانی لانے گئے ہیں،گفتگو ہورہی تھی کہ اسی دوران!ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے،انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ ﷺ سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فداہوں،پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔آپ نے فرمایا: ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں،یا یہ کہاکہ آپ حضرات پکی کھجوروں کوکچی کھجوروں میں سے خود پسند کرلیں،بہر حال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا،اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقینا یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیاجائے گا اوروہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ،پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی،پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ ﷺ نے ان سے کہا: دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا،چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نربچہ ذبح کیا اور اسے پکاکر ان حضرات کے سامنے پیش کیا،ان سبھوں نے اسے کھایااور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیاتوآپ نے فرمایا:جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا،پھرنبی اکرم ﷺ کے پاس دوقیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا،ابوالھیثم بھی آئے تو آپ ﷺنے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کوپسند کرلو،انہوں نے کہا:اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کردیجئے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک جس سے مشورہ لیاجائے وہ امین ہوتاہے۔لہذا تم اس کو لے لو(ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کیونکہ ہم نے اسے صلاۃ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھاسلوک کرنا،پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہﷺکی باتوں سے اسے باخبر کیا،ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرمﷺ کی وصیت کو پورا نہ کرسکو گے مگریہ کہ اس غلام کو آزاد کردو،اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کردیا،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دورازدارساتھی ہوتے ہیں،ایک اسے بھلائی کا حکم دیتاہے اور برائی سے روکتاہے،جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا،پس جسے برے ساتھی سے بچالیا گیا گو یا وہ بڑی آفت سے نجات پاگیا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔