Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2431 (سنن الترمذي)

[2431] إسنادہ ضعیف

وانظر الحدیث الآتي (3243)

عطیۃ ضعیف

انوار الصحیفہ ص 256

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتَی يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ ثَقُلَ عَلَی أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَہُمْ قُولُوا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَی اللہِ تَوَكَّلْنَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کیسے آرام کروں جب کہ صوروالے اسرافیل علیہ السلام صور کو منہ میں لیئے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے،گویا یہ امر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرسخت گذرا،تو آپ نے فرمایا: کہو: حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ،عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابوسعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔