Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2454 (سنن الترمذي)

[2454]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي يَعْلَی عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ فِي وَسَطِ الْخَطِّ خَطًّا وَخَطَّ خَارِجًا مِنْ الْخَطِّ خَطًّا وَحَوْلَ الَّذِي فِي الْوَسَطِ خُطُوطًا فَقَالَ ہَذَا ابْنُ آدَمَ وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِيطٌ بِہِ وَہَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ الْإِنْسَانُ وَہَذِہِ الْخُطُوطُ عُرُوضُہُ إِنْ نَجَا مِنْ ہَذَا يَنْہَشُہُ ہَذَا وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ ہَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک مربع خط (یعنی چوکور)لکیر کھینچی اور ایک لکیردرمیان میں اس سے باہر نکلتاہوا کھینچی،اور اس درمیانی لکیرکے بغل میں چند چھوٹی چھوٹی لکیرین اور کھینچی،پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور یہ لکیراس کی موت کی ہے جو ہرطرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔اوریہ درمیان والی لکیر انسان ہے(یعنی اس کی آرزوئیں ہیں) اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان کو پیش آنے والے حوادث ہیں،اگر ایک حادثہ سے وہ بچ نکلا تو دوسرا اسے ڈس لے گا اور باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے ۱؎۔