Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 248 (سنن الترمذي)

[248] شاذ

روایۃ شعبۃ: وخفض بھا صوتہ،شاذۃ،ضعفھا البخاري وغیرہ۔

وحدیث سفیان الثوري عن سلمۃ: ’’صحیح‘‘

تنبیہ: انوار الصحیفہ میں حدیث نمبر کے اوپر لائن لگائی گئی ہے۔

انوار الصحیفہ ص 196

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُہَيْلٍ،عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ،عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقَالَ: آمِينَ،وَمَدَّ بِہَا صَوْتَہُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،وَأَبِي ہُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَی: حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَبِہِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ،وَالتَّابِعِينَ،وَمَنْ بَعْدَہُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّأْمِينِ،وَلاَ يُخْفِيہَا. وَبِہِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،وَأَحْمَدُ،وَإِسْحَاقُ. وَرَوَی شُعْبَةُ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُہَيْلٍ،عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ،عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ،عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقَالَ:آمِينَ،وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہُ. قَالَ أَبُو عِيسَی: و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي ہَذَا،وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ ہَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ: عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ،وَإِنَّمَا ہُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ،وَيُكْنَی أَبَا السَّكَنِ،وَزَادَ فِيہِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ،وَلَيْسَ فِيہِ: عَنْ عَلْقَمَةَ،وَإِنَّمَا ہُوَ: عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،وَقَالَ: وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہُ،وَإِنَّمَا ہُوَ وَمَدَّ بِہَا صَوْتَہُ. قَالَ أَبُو عِيسَی: وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَ: حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي ہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ،قَالَ: وَرَوَی الْعَلاَءُ بْنُ صَالِحٍ الأَسَدِيُّ،عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُہَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھ کر،آمین کہتے سنا،اوراس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی۔(یعنی بلندکی) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-صحابہ تابعین اوران کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ٭(شاذ) ۴-شعبہ نے یہ حدیث بطریق سلمۃ بن کہیل،عن حُجر أبی العنبس،عن علقمۃ بن وائل،عن أبیہ وائل روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھا توآپ نے آمین کہی اوراپنی آواز پست کی،۵-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو کہتے سناکہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہاہے،جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے عن علقمۃ بن وائل کاواسطہ بڑھادیاہے جب کہ اس میں علقمہ کاواسطہ نہیں ہے،حجر بن عنبس براہ راست حجرسے روایت کررہے ہیں،اور وخفض بہا صوتہ (آواز پست کی) کہاہے،جب کہ یہ ومدّ بہا صوتہ (اپنی آواز کھینچی) ہے،۶-میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎۔