Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2535 (سنن الترمذي)

[2535]صحیح

مشکوۃ المصابیح (5635)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوہِہِمْ عَلَی مِثْلِ ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَی مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ زَوْجَتَانِ عَلَی كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَی مُخُّ سَاقِہَا مِنْ وَرَائِہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا،کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا،ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے،ان سے منبعث کے غلام یزید نے،اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔پھر اس کے بندھن اور برتن کی بناوٹ کو ذہن میں یاد رکھ۔اور اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر۔اس کا مالک اگراس کے بعد آئے تو اسے واپس کردے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! راستہ بھولی ہوئی بکری کا کیا کیا جائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو،کیوں کہ وہ یا تمہاری ہوگی یا تمہارے بھائی کی ہوگی یا پھر بھیڑیئے کی ہوگی۔صحابہ نے پوچھا،یا رسول اللہ! راستہ بھولے ہوئے اونٹ کا کیا کیا جائے؟ آپ اس پر غصہ ہو گئے اور چہرہ ¿ مبارک سرخ ہو گیا (یا راوی نے وجنتاہ کے بجائے) احمر وجہہ کہا۔پھر آپ نے فرمایا،تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ خود اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے۔اسی طرح اسے اس کا اصل مالک مل جائے گا۔