Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2586 (سنن الترمذي)

[2586] إسنادہ ضعیف

الأعمش عنعن وقال أحمد: الأعمش لم یسمع من شمر بن عطیۃ (المراسیل لابن أبي حاتم ص82)

انوار الصحیفہ ص 263

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُلْقَی عَلَی أَہْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا ہُمْ فِيہِ مِنْ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّہُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغَصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْہِمْ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوہِہِمْ شَوَتْ وُجُوہَہُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَہُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِہِمْ فَيَقُولُونَ ادْعُوا خَزَنَةَ جَہَنَّمَ فَيَقُولُونَ أَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَی قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ قَالَ فَيَقُولُونَ ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُونَ يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ فَيُجِيبُہُمْ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ قَالَ الْأَعْمَشُ نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِہِمْ وَبَيْنَ إِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاہُمْ أَلْفَ عَامٍ قَالَ فَيَقُولُونَ ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ فَيُجِيبُہُمْ اخْسَئُوا فِيہَا وَلَا تُكَلِّمُونِ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ ہَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عِيسَی إِنَّمَا نَعْرِفُ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَوْلَہُ وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ وَقُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ہُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہوجائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے،لہذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ضریع (خاردار پودا) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اورنہ ان کی بھوک ختم کرے گا،پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی،پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے،چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی حمیم (جہنمیوں کے مواد) سے کی جائے گی جولوہے کے برتنوں میں دیاجائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہوگا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گاتو ان کے پیٹ کے اندر جوکچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا،وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کوبلاؤ،داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں،داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو،کافروں کی پکار بے کار ہی جائے گی۔آپ نے فرمایا: جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیے کہ تیرارب ہمارا فیصلہ کردے(ہمیں موت دے دے) آپ نے فرمایا: ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ (ہمیشہ کے لیے) اسی میں رہنے والے ہو۔اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیاگیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہوگا،آپ نے فرمایا:جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے،وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے،اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھرویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہواور مجھ سے بات نہ کرو،آپ نے فرمایا: اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہوجائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت وہلاکت میں گرفتار ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعا ًنہیں روایت کرتے ہیں،۲-ہم اس حدیث کو صرف عن الأعمش،عن شمر بن عطیۃ،عن شہر بن حوشب،عن أم الدرداء کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کااپنا قول ہے،مرفوع حدیث نہیں ہے۔