Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2595 (سنن الترمذي)

[2595]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَہْلِ النَّارِ خُرُوجًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ قَالَ فَيُقَالُ لَہُ انْطَلِقْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَذْہَبُ لِيَدْخُلَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ قَالَ فَيُقَالُ لَہُ أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيہِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَہُ تَمَنَّ قَالَ فَيَتَمَنَّی فَيُقَالُ لَہُ فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَعَشْرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ ضَحِكَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتاہوں،وہ ایسا آدمی ہوگا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے،آپ نے فرمایا: اس سے کہاجائے گا: چلو جنت میں داخل ہوجاؤ،آپ نے فرمایا: وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا (جنت کو اس حال میں) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں،وہ واپس آکر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟!،آپ نے فرمایا: اس سے کہاجائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن میں (دنیا کے اندر) تھے؟ وہ کہے گا: ہاں،اس سے کہاجائے گا:آرزو کرو،آپ نے فرمایا: وہ آرزو کرے گا،اس سے کہاجائے گا: تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے۔آپ نے فرمایا: وہ کہے گا: (اے باری تعالیٰ!)آپ مذاق کررہے ہیں حالاں کہ آپ مالک ہیں،ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے دیکھا حتی کہ آپ کے اندورنی کے دانت نظر آنے لگے ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔