Jamia al-Tirmidhi Hadith 261 (سنن الترمذي)
[261] إسنادہ ضعیف
ابو داود (886) ابن ماجہ (890)
إسحاق بن یزید مجہول(تقریب: 393)
والسند منقطع
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَزِيدَ الْہُذَلِيِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِہِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُہُ وَذَلِكَ أَدْنَاہُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِہِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُہُ وَذَلِكَ أَدْنَاہُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَيْسَ إِسْنَادُہُ بِمُتَّصِلٍ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَنْقُصَ الرَّجُلُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ مِنْ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّہُ قَالَ أَسْتَحِبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُسَبِّحَ خَمْسَ تَسْبِيحَاتٍ لِكَيْ يُدْرِكَ مَنْ خَلْفَہُ ثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ وَہَكَذَا قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِتین مرتبہ کہے تو اس کارکوع پورا ہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔اور جب سجدہ کرے تواپنے سجدے میں تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی کہے تو اس کا سجدہ پوراہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ۱؎،۲-اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم کا عمل اسی پرہے،وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے،۴-عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے،انہوں نے کہاکہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتاہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اوراسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہاہے۔