Jamia al-Tirmidhi Hadith 274 (سنن الترمذي)
[274]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَقْرَمِ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَمَرَّتْ رَكَبَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قَائِمٌ يُصَلِّي قَالَ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَی عُفْرَتَيْ إِبْطَيْہِ إِذَا سَجَدَ أَيْ بَيَاضِہِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ وَأَحْمَرَ بْنِ جَزْءٍ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَہْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ ہَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ لَہُ حَدِيثٌ وَاحِدٌ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَقْرَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ وَلَا نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ غَيْرَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّہْرِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ ﷺ وَہُوَ كَاتِبُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مقام نمرہ کے قاع(مسطح زمین) میں اپنے والد کے ساتھ تھا،تو(وہاں سے) ایک قافلہ گزرا،کیادیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کھڑے صلاۃ پڑھ رہے ہیں،میں آپﷺ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہاتھا جب آپ سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عبداللہ بن اقرم رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں۔عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے،۲-صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے،۳-اس باب میں ابن عباس،ابن بحینہ،جابر،احمر بن جزء،میمونہ،ابوحمید،ابومسعود،ابو اسید،سہل بن سعد،محمد بن مسلمہ،براء بن عازب،عدی بن عمیرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-احمر بن جزء نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے۔