Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 275 (سنن الترمذي)

[275]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْہِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَأَنَسٍ وَالْبَرَاءِ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَكْرَہُونَ الِافْتِرَاشَ كَافْتِرَاشِ السَّبُعِ

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل،انس،براء،ابوحمید اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم کا عمل اسی پر ہے،وہ سجدے میں اعتدال کوپسندکرتے ہیں اورہاتھ کودرندے کی طرح بچھانے کومکروہ سمجھتے ہیں۔