Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 304 (سنن الترمذي)

[304]إسنادہ صحیح

عبد الحمید بن جعفر ثقۃ وثقہ الجمھور ومحمد بن عمرو بن عطاء سمعہ من أبي حمید وغیرہ، و أعل بما لا یقدح مشکوۃ المصابیح (801)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُہُ وَہُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَحَدُہُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالُوا مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَہُ صُحْبَةً وَلَا أَكْثَرَنَا لَہُ إِتْيَانًا قَالَ بَلَی قَالُوا فَاعْرِضْ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْہِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِہِمَا مَنْكِبَيْہِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْہِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِہِمَا مَنْكِبَيْہِ ثُمَّ قَالَ اللہُ أَكْبَرُ وَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَہُ وَلَمْ يُقْنِعْ وَوَضَعَ يَدَيْہِ عَلَی رُكْبَتَيْہِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَرَفَعَ يَدَيْہِ وَاعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَہْوَی إِلَی الْأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللہُ أَكْبَرُ ثُمَّ جَافَی عَضُدَيْہِ عَنْ إِبْطَيْہِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْہِ ثُمَّ ثَنَی رِجْلَہُ الْيُسْرَی وَقَعَدَ عَلَيْہَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَہْوَی سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللہُ أَكْبَرُ ثُمَّ ثَنَی رِجْلَہُ وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِہِ ثُمَّ نَہَضَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّی إِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْہِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِہِمَا مَنْكِبَيْہِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّی كَانَتْ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيہَا صَلَاتُہُ أَخَّرَ رِجْلَہُ الْيُسْرَی وَقَعَدَ عَلَی شِقِّہِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَمَعْنَی قَوْلِہِ وَرَفَعَ يَدَيْہِ إِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ يَعْنِي قَامَ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ

محمدبن عمروبن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہیں سنا (جب) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے،ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے،ابوحمید رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہﷺکی صلاۃ کاسب سے زیادہ جانکارہوں،تولوگوں نے کہاکہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اورنہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرمﷺ کے پاس آتے جاتے تھے؟ توانہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ ﷺکاطریقہ صلاۃزیادہ یادہے) اس پر لوگوں نے کہا(اگرتم زیادہ جانتے ہو)توپیش کرو،توانہوں نے کہا: رسول اللہﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے،پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے،پھر اللہ اکبرکہتے اوررکوع کرتے اوربالکل سیدھے ہوجاتے،نہ اپنا سربالکل نیچے جھکاتے اورنہ اوپرہی اٹھائے رکھتے اوراپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے،پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع الیدین کرتے) اورسیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ جسم کی ہرایک ہڈی سیدھی ہوکراپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھُکتے،پھر اللہ اکبرکہتے اوراپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جُدا رکھتے،اوراپنے پیروں کی انگلیاں کھُلی رکھتے،پھر اپنابایاں پیر موڑتے اوراس پر بیٹھتے اورسیدھے ہوجاتے یہاں تک کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی،اورآپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب (تیسری رکعت کے لیے) اٹھتے تو اللہ اکبرکہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے صلاۃ شروع کی تھی،پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں صلاۃ ختم ہورہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخرکرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اورسرین پر بیٹھتے،پھرسلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اوران کے قول َرَفَعَ یَدَیْہِ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ (دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے) کامطلب ہے کہ جب دورکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوتے۔