Jamia al-Tirmidhi Hadith 366 (سنن الترمذي)
[366] إسنادہ ضعیف
ابو داود (995) نسائي (1177)
قال الترمذي: ’’حسن،إلا أن أبا عبیدۃ لم یسمع من أبیہ‘‘! فالسند منقطع
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ہُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ قَال سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّہُ عَلَی الرَّضْفِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ حَرَّكَ سَعْدٌ شَفَتَيْہِ بِشَيْءٍ فَأَقُولُ حَتَّی يَقُومَ فَيَقُولُ حَتَّی يَقُومَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيہِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ لَا يُطِيلَ الرَّجُلُ الْقُعُودَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَزِيدَ عَلَی التَّشَہُّدِ شَيْئًا وَقَالُوا إِنْ زَادَ عَلَی التَّشَہُّدِ فَعَلَيْہِ سَجْدَتَا السَّہْوِ ہَكَذَا رُوِيَ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَغَيْرِہِ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے توایسالگتاگویا آپ گرم پتھرپر بیٹھے ہیں ۱؎،شعبہ (راوی) کہتے ہیں: پھرسعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کوکسی چیز کے ساتھ حرکت دی ۲؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن ہے،مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے،۲-اہل علم کاعمل اسی پر ہے،وہ اسی کو پسندکرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کولمبانہ کرے اورتشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے،ان لوگوں کاکہنا ہے کہ اگراس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیزپڑھی تو اس پرسہوکے دوسجدے لازم ہوجائیں گے،شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے۳؎۔