Jamia al-Tirmidhi Hadith 378 (سنن الترمذي)
[378] ضعیف
ابن ماجہ (966)
عسل بن سفیان: ضعیف (تقریب: 4578)
وللحدیث طریق آخر ضعیف جدًا عند سنن أبي داود (643)
وللحدیث شواہد ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ فَكَرِہَ بَعْضُہُمْ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالُوا ہَكَذَا تَصْنَعُ الْيَہُودُ و قَالَ بَعْضُہُمْ إِنَّمَا كُرِہَ السَّدْلُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْہِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَأَمَّا إِذَا سَدَلَ عَلَی الْقَمِيصِ فَلَا بَأْسَ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَكَرِہَ ابْنُ الْمُبَارَكِ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے صلاۃ میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کوعطاکی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں،۲-اس باب میں ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔۳-سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ صلاۃ میں سدل کرنا مکروہ ہے،ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ صلاۃ میں سدل اس وقت مکروہ ہوگا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو،رہی یہ بات کہ جب کوئی کُرتے کے اوپرسدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن المبارک نے صلاۃ میں سدل کو (مطلقاً) مکروہ قرار دیاہے۔