Jamia al-Tirmidhi Hadith 385 (سنن الترمذي)
[385] إسنادہ ضعیف
عبد اللہ بن نافع بن العمیاء ضعفہ البخاري والجمہور وضعفہ راجح وقال ابن حجر: مجہول (تقریب: 3658)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الصَّلَاةُ مَثْنَی مَثْنَی تَشَہَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَخَشَّعُ وَتَضَرَّعُ وَتَمَسْكَنُ وَتَذَرَّعُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُولُ تَرْفَعُہُمَا إِلَی رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِہِمَا وَجْہَكَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَہُوَ كَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی و قَالَ غَيْرُ ابْنِ الْمُبَارَكِ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ مَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَہِيَ خِدَاجٌ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ رَوَی شُعْبَةُ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِيدٍ فَأَخْطَأَ فِي مَوَاضِعَ فَقَالَ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ وَہُوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا ہُوَ عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَإِنَّمَا ہُوَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ہُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ يَعْنِي أَصَحَّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: صلاۃدو دورکعت ہے اور ہر دورکعت کے بعد تشہد ہے،صلاۃخشوع وخضوع،مسکنت اورگریہ وزاری کا اظہار ہے،اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ: اے رب! اے رب! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن مبارک کے علاوہ اورلوگوں نے اس حدیث میں مَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَہِیَ خِدَاجٌ (جس نے ایسانہیں کیا اس کی صلاۃناقص ہے)کہا ہے،۲-میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شعبہ نے یہ حدیث عبدربہ بن سعید سے روایت کی ہے اور ان سے کئی مقامات پرغلطیاں ہوئی ہیں:ایک تویہ کہ انہوں نے انس بن ابی انس سے روایت کی حالاں کہ وہ عمران بن ابی انس ہیں،دوسرے یہ کہ انہوں نے عن عبداللہ بن حارث کہاہے حالانکہ وہ عبداللہ بن نافع بن العمیاء عن ربیعۃ بن الحارثہے،تیسرے یہ کہ شعبہ نے عن عبداللہ بن الحارث عن المطلب عن النبی ﷺ کہا ہے حالانکہ صحیح عن ربیعۃ بن الحارث بن عبدالمطلب عن الفضل بن عباس عن النبی ﷺ ہے۔محمدبن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں: لیث بن سعد کی حدیث صحیح ہے یعنی شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے(ورنہ اصلاً توضعیف ہی ہے)۔