Jamia al-Tirmidhi Hadith 395 (سنن الترمذي)
[395]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (1019)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّی بِہِمْ فَسَہَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَہَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَی مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْمُہَلَّبِ وَہُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَی مُحَمَّدٌ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُہَلَّبِ وَأَبُو الْمُہَلَّبِ اسْمُہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ أَيْضًا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِيُّ وَہُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِہِ وَہُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنْ الْعَصْرِ فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَہُّدِ فِي سَجْدَتَيْ السَّہْوِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ يَتَشَہَّدُ فِيہِمَا وَيُسَلِّمُ و قَالَ بَعْضُہُمْ لَيْسَ فِيہِمَا تَشَہُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَہُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَہَّدْ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالَا إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّہْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَہَّدْ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں صلاۃ پڑھائی آپ سے سہو ہوگیا ؛توآپ نے دوسجدے کئے پھر تشہد پڑھا،پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-عبدالوھاب ثقفی،ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اورلوگوں نے بطریق: خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے،اور وہ یہی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عصرمیں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے خرباقکہاجاتا تھا (اور اس نے پوچھا: کیا صلاۃ میں کمی کردی گئی ہے،یا آپ بھول گئے ہیں) ۳-سجدئہ سہوکے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہوکے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اورجب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے،یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدئہ سہوکرے توتشہد نہ پڑھے (اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے)۔