Jamia al-Tirmidhi Hadith 408 (سنن الترمذي)
[408] إسنادہ ضعیف
ابو داود (617)
الإ فریقي: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْمُلَقَّبُ مَرْدُوَيْہِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ وَبَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ أَخْبَرَاہُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَحْدَثَ يَعْنِي الرَّجُلَ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِہِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُہُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِہِ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی ہَذَا قَالُوا إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَہُّدِ وَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُہُ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَہَّدَ وَقَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ و قَالَ أَحْمَدُ إِذَا لَمْ يَتَشَہَّدْ وَسَلَّمَ أَجْزَأَہُ لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ وَتَحْلِيلُہَا التَّسْلِيمُ وَالتَّشَہُّدُ أَہْوَنُ قَامَ النَّبِيُّ ﷺ فِي اثْنَتَيْنِ فَمَضَی فِي صَلَاتِہِ وَلَمْ يَتَشَہَّدْ و قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ إِذَا تَشَہَّدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ أَجْزَأَہُ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ حِينَ عَلَّمَہُ النَّبِيُّ ﷺ التَّشَہُّدَ فَقَالَ إِذَا فَرَغْتَ مِنْ ہَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ہُوَ الْأَفْرِيقِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْحَدِيثِ مِنْہُمْ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب آدمی کوسلام پھیرنے سے پہلے حدث لاحق ہوجائے اور وہ اپنی صلاۃ کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکاہوتو اس کی صلاۃ درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں،اس کی سند میں اضطراب ہے،۲-عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم،جو افریقی ہیں کو بعض محدّثین نے ضعیف قراردیا ہے۔ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں،۳-بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیر نے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو پھر اس کی صلاۃ پوری ہوگئی،۴-اوربعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب حدث تشہدپڑھنے سے یا سلام پھیر نے سے پہلے لاحق ہوجائے تو صلاۃ دہرائے۔شافعی کا یہی قول ہے،۵-اوراحمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اورسلام پھیردے تو اس کی صلاۃ اُسے کافی ہوجائے گی،اس لیے کہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے: تَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ یعنی صلاۃ میں جوچیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں،بغیرسلام کے صلاۃسے نہیں نکلا جاسکتا اور تشہد اتنااہم نہیں جتناسلام ہے کہ اس کے ترک سے صلاۃ درست نہ ہوگی،ایک بار نبی اکرمﷺ دورکعت کے بعد کھڑے ہوگئے اپنی صلاۃ جاری رکھی اورتشہد نہیں کیا،۶-اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کرلے اور سلام نہ پھیرا ہوتو صلاۃ ہوگئی،انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرمﷺ نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہوگئے تو تم نے اپنافریضہ پورا کرلیا۔