Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 445 (سنن الترمذي)

[445] ضعیف

حدیث: ’’خرمیتًا وکنت فیمن احتملہ إلی دارہ‘‘ سندہ ضعیف،فیہ عتاب بن المثنی روی عنہ جماعۃ ولم أجد من وثقہ فھو مستور (انظر التحریر تقریب التہذیب: 4423)

والحدیث المرفوع صحیح،رواہ مسلم (746)

قال معاذ علي زئي:

أبو المثنی ‌عتاب ‌بن ‌المثنی،مولی قشير،سمع بہز بن حكيم (الکنی والأسماء للإمام مسلم بن الحجاج: 3184)

قال عبد اللہ بن أحمد بن حنبل: سألت يحيی بن معین عن ‌عتاب بن المثنی،فقال: ’’ليس بہ بأس،حدث عن ‌بہز ‌بن ‌حكيم‘‘ (العلل ومعرفۃ الرجال: 3965 وسندہ صحیح)

وذکرہ ابن شاھین في تاریخ أسماء الثقات وقال: ’’‌غياث ‌بن ‌المثنی فقال ليس بہ بأس حدث عن ‌بہز بن حكيم‘‘ (1117)

فأثر زرارة بن أوفی ثابت صحیح عنہ أیضًا.

وقال أبو داود الطیالسي: ’’وكان زرارة علی قضاء البصرة ومات وہو ساجد‘‘ (الجرح والتعدیل: 3/ 604 وسندہ صحیح)

وأخرجہ مطین الحضرمي في جزء فیہ من الأخبار والحکایات من کلام العلماء (58 وسندہ صحیح) وابن سعد فی الطبقات (7/ 150 وسندہ صحیح) وعبد اللہ بن أحمد بن حنبل فی الزھد (1383 وسندہ صحیح) والحاکم فی المستدرک (2/ 507 ح 3871 وسندہ صحیح) والبیھقي في شعب الإیمان من طریق الحاکم (939 وسندہ صحیح)

تنبیہ: انوار الصحیفہ میں حدیث نمبر کے اوپر لائن لگائی گئی ہے۔

انوار الصحیفہ ص 200

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنْ اللَّيْلِ مَنَعَہُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْہُ عَيْنَاہُ صَلَّی مِنْ النَّہَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ ہُوَ ابْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ وَہِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ہُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ بَہْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ كَانَ زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَی قَاضِيَ الْبَصْرَةِ وَكَانَ يَؤُمُّ فِي بَنِي قُشَيْرٍ فَقَرَأَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ خَرَّ مَيِّتًا فَكُنْتُ فِيمَنْ احْتَمَلَہُ إِلَی دَارِہِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺجب راتمیں تہجدنہیں پڑھ پاتے تھے اور نینداس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیندکا غلبہ ہوجاتا تو دن میں(اس کے بدلہ میں) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ہیں۔بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفیٰ بصرہ کے قاضی تھے۔وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے،انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ فَذَلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیرٌ (جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہوگا)پڑھی تووہ بے ہوش ہوکر گرپڑے اور مرگئے۔میں بھی ان لوگوں میں شامل تھاجو انہیں اٹھاکر ان کے گھر لے گئے۔