Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 460 (سنن الترمذي)

[460] إسنادہ ضعیف

ھشام بن حسان مدلس وعنعن

انوار الصحیفہ ص 201

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيہِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِثَلَاثِ سُوَرٍ آخِرُہُنَّ قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَيُرْوَی أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ہَكَذَا رَوَی بَعْضُہُمْ فَلَمْ يَذْكُرُوا فِيہِ عَنْ أُبَيٍّ وَذَكَرَ بَعْضُہُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أُبَيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ ذَہَبَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ إِلَی ہَذَا وَرَأَوْا أَنْ يُوتِرَ الرَّجُلُ بِثَلَاثٍ قَالَ سُفْيَانُ إِنْ شِئْتَ أَوْتَرْتَ بِخَمْسٍ وَإِنْ شِئْتَ أَوْتَرْتَ بِثَلَاثٍ وَإِنْ شِئْتَ أَوْتَرْتَ بِرَكْعَةٍ قَالَ سُفْيَانُ وَالَّذِي أَسْتَحِبُّ أَنْ أُوتِرَ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَہُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ كَانُوا يُوتِرُونَ بِخَمْسٍ وَبِثَلَاثٍ وَبِرَكْعَةٍ وَيَرَوْنَ كُلَّ ذَلِكَ حَسَنًا

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے،ان میں مفصل میں سے نو سورتیں پڑھتے ہررکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے،اورسب سے آخرمیں قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌپڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس باب میں عمران بن حصین،ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا،ابن عباس،ابوایوب انصاری اور عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے اسے ابی بن کعب سے روایت کی ہے۔نیزیہ بھی مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے نبی اکرمﷺ سے (براہِ راست) روایت کی ہے۔اسی طرح بعض لوگوں نے روایت کی ہے،اس میں انہوں نے ابی کے واسطے کا ذکرنہیں کیاہے۔اور بعض نے ابی کے واسطے کا ذکر کیاہے۔۲-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت کا خیال یہی ہے کہ آدمی وتر تین رکعت پڑھے،۳-سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگرتم چاہو تو پانچ رکعت وتر پڑھو،اور چاہو تو تین رکعت پڑھو،اور چاہو تو صرف ایک رکعت پڑھو۔اورمیں تین رکعت ہی پڑھنے کو مستحب سمجھتاہوں۔ابن مبارک اوراہل کوفہ کا یہی قول ہے،۴-محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ لوگ وترکبھی پانچ رکعت پڑھتے تھے،کبھی تین اورکبھی ایک،وہ ہرایک کو مستحسن سمجھتے تھے ۲؎۔