Jamia al-Tirmidhi Hadith 484 (سنن الترمذي)
[484]إسنادہ حسن
عبد اللہ بن کیسان: وثقہ البغوي وابن حبان فھو حسن الحدیث مشکوۃ المصابیح (923)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ كَيْسَانَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ شَدَّادٍ أَخْبَرَہُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ أَوْلَی النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُہُمْ عَلَيَّ صَلَاةً قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرُوِي عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ مَنْ صَلَّی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ بِہَا عَشْرًا وَكَتَبَ لَہُ بِہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ۱؎ وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ صلاۃ(درود) بھیجے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-نبی اکرمﷺسے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایاـ: جو مجھ پر ایک بار صلاۃ(درود) بھیجتا ہے،اللہ اس پر اس کے بدلے دس بار صلاۃ(درود) بھیجتاہے ۲؎،اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں(یہی حدیث آگے آرہی ہے)۔