Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 486 (سنن الترمذي)

[486] إسنادہ ضعیف

أبو قرۃ الأسدي : مجہول (تقریب: 8315)

انوار الصحیفہ ص 202

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْمَصَاحِفِيُّ الْبَلْخِيُّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْہُ شَيْءٌ حَتَّی تُصَلِّيَ عَلَی نَبِيِّكَ ﷺ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے،اس میں سے ذراسی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی ﷺ پر صلاۃ(درود) نہیں بھیج لیتے۔