Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 497 (سنن الترمذي)

[497]إسنادہ حسن

فائدۃ: الحسن البصري صرح بالسماع عند الطوسي في مختصر الأحکام (3/ 10 ح 334 / 467) و حدیثہ عن سمرۃ صحیح و لو لم یصرح بالسماع لأنہ یروي عن کتاب سمرۃ والروایۃ عن کتاب: صحیحۃ ما لم یثبت الجرح فیہ والحمد للّٰہ مشکوۃ المصابیح (540)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِہَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاہُ بَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَرَوَاہُ بَعْضُہُمْ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مُرْسَلٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ اخْتَارُوا الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَأَوْا أَنْ يُجْزِئَ الْوُضُوءُ مِنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَی أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ ﷺ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنَّہُ عَلَی الِاخْتِيَارِ لَا عَلَی الْوُجُوبِ حَدِيثُ عُمَرَ حَيْثُ قَالَ لِعُثْمَانَ وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَوْ عَلِمَا أَنَّ أَمْرَہُ عَلَی الْوُجُوبِ لَا عَلَی الِاخْتِيَارِ لَمْ يَتْرُكْ عُمَرُ عُثْمَانَ حَتَّی يَرُدَّہُ وَيَقُولَ لَہُ ارْجِعْ فَاغْتَسِلْ وَلَمَا خَفِيَ عَلَی عُثْمَانَ ذَلِكَ مَعَ عِلْمِہِ وَلَكِنْ دَلَّ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيہِ فَضْلٌ مِنْ غَيْرِ وُجُوبٍ يَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ فِي ذَلِكَ

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضوکیا تواس نے رخصت کواختیارکیا اورخوب ہے یہ رخصت،اورجس نے غسل کیا توغسل افضل ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اورقتادہ نے حسن بصری سے اورحسن بصری نے سمرہ بن جندب سے (مرفوعاً) روایت کی ہے۔اوربعض نے قتادہ سے اورقتادہ نے حسن سے اورحسن نے نبی اکرمﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے،۳-اس باب میں ابوہریرہ،عائشہ اورانس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-صحابہ کرام اوران کے بعدکے اہل علم کاعمل اسی پر ہے،انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسندکیا ہے،ان کاخیال ہے کہ غسل کے بدلے وضوبھی کافی ہوجائے گا،۵-شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرمﷺ کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جوچیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہاہے کہ تم نے صرف وضوپر اکتفاکیاہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیاہے،اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے،اختیاری نہیں توعمر رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کولوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اوران سے کہتے:جاؤغسل کرو،اورنہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجودکہ نبی اکرمﷺ نے جمعہ کو غسل کر نے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی،بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔