Jamia al-Tirmidhi Hadith 501 (سنن الترمذي)
[501] إسنادہ ضعیف
ثویر: ضعیف،رمي بالرفض (تقریب: 862)
وشیخہ رجل من أھل قباء: مجہول
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْہِ قَالاَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ،حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ،عَنْ ثُوَيْرٍ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ قُبَاءَ،عَنْ أَبِيہِ،وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:أَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ أَنْ نَشْہَدَ الْجُمُعَةَ مِنْ قُبَاءَ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا وَلاَ يَصِحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَی: ہَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُہُ إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ،وَلاَ يَصِحُّ فِي ہَذَا الْبَابِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ شَيْئٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ:الْجُمُعَةُ عَلَی مَنْ آوَاہُ اللَّيْلُ إِلَی أَہْلِہِ. وَہَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُہُ ضَعِيفٌ،إِنَّمَا يُرْوَی مِنْ حَدِيثِ مُعَارِكِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ،وَضَعَّفَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَبْدَاللہِ بْنَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ فِي الْحَدِيثِ. فَقَالَ: وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلَی مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ. قَالَ بَعْضُہُمْ: تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَی مَنْ آوَاہُ اللَّيْلُ إِلَی مَنْزِلِہِ. وَقَالَ بَعْضُہُمْ: لاَ تَجِبُ الْجُمُعَةُ إِلاَّ عَلَی مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ. وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ
اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتاہے-اس کے والد صحابہ میں سے ہیں-وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ہمیں حکم دیاکہ ہم قباء سے آکرجمعہ میں شریک ہوں۔اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے،وہ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں،لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،اوراس باب میں نبی اکرمﷺسے مروی کوئی چیزصحیح نہیں ہے،۲-ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھروالوں تک پہنچ سکے،اس حدیث کی سند ضعیف ہے،یہ حدیث معارک بن عبادسے روایت کی جاتی ہے اورمعارک عبد اللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں،یحییٰ بن سعیدقطان نے عبداللہ بن سعیدمقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے،۳-اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پرواجب ہے،بعض کہتے ہیں: جمعہ اس شخص پرواجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اوربعض کہتے ہیں: جمعہ صرف اسی پرواجب جس نے اذان سنی ہو،شافعی،احمداوراسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔