Jamia al-Tirmidhi Hadith 530 (سنن الترمذي)
[530] ضعیف
ابن ماجہ (1296)
فیہ علل منھا ضعف الحارث الأعور وعنعنۃ أبي إسحاق وشریک القاضي
وللحدیث شواھد ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مِنْ السُّنَّةِ أَنْ تَخْرُجَ إِلَی الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ تَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ إِلَی الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الْفِطْرِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَيُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَرْكَبَ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھالینا سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اکثر اہل علم کااسی حدیث پرعمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطرکی صلاۃ کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھالے،۳-مستحب یہ ہے کہ آدمی بلاعذر سوار ہوکرنہ جائے۔