Jamia al-Tirmidhi Hadith 542 (سنن الترمذي)
[542]إسنادہ حسن
زاد البیھقي في فضائل الاوقات (ح 215): ’’من كبد أضحيته‘‘ وسندہ حسن مشکوۃ المصابیح (1440)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ ثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی يَطْعَمَ وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَی حَتَّی يُصَلِّيَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ و قَالَ مُحَمَّدٌ لَا أَعْرِفُ لِثَوَابِ بْنِ عُتْبَةَ غَيْرَ ہَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی يَطْعَمَ شَيْئًا وَيُسْتَحَبُّ لَہُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَی تَمْرٍ وَلَا يَطْعَمَ يَوْمَ الْأَضْحَی حَتَّی يَرْجِعَ
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الا ٔضحی کے دن جب تک صلاۃنہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث غریب ہے،۲-محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم،۳-اس باب میں علی اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-بعض اہل علم نے مستحب قراردیاہے کہ آدمی عید الفطر کی صلاۃ کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اوراس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ۱؎ کا ناشتہ کرے اور عید الا ٔضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کرنہ آجائے۔