Jamia al-Tirmidhi Hadith 544 (سنن الترمذي)
[544]إسنادہ حسن
ولہ شواھد کثیرۃ عند ابن خزیمہ (ح 1257۔1259) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلُّونَ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا و قَالَ عَبْدُ اللہِ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَہَا أَوْ بَعْدَہَا لَأَتْمَمْتُہَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ سُلَيْمٍ مِثْلَ ہَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَقَدْ رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَہَا وَقَدْ صَحَّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِہِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَالْعَمَلُ عَلَی مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِہِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ التَّقْصِيرُ رُخْصَةٌ لَہُ فِي السَّفَرِ فَإِنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ أَجْزَأَ عَنْہُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ،ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفر کیا،یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔نہ اس سے پہلے کوئی صلاۃ پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد(سنت) صلاۃ پڑھتا تو میں ا نہی (فرائض) کو پوری پڑھتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن غریب ہے،ہم اسے اس طرح یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں،۲-محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث بطریق:عَنْ عُبَیْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَۃَ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ بھی مروی ہے،۳-اور عطیہ عوفی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سفرمیں صلاۃ سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھتے تھے ۱؎،۴-اس باب میں عمر،علی،ابن عباس،انس،عمران بن حصین اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۵-نبی اکرمﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اورابوبکروعمر سفر میں قصر کرتے تھے اور عثمان بھی اپنی خلافت کے شروع میں قصرکرتے تھے،۶-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے،۷-اورعائشہ سے مروی ہے کہ وہ سفر میں صلاۃ پوری پڑھتی تھیں ۲؎،۸-اورعمل اسی پرہے جو نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرام سے مروی ہے،یہی شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے،البتہ شافعی کہتے ہیں کہ سفرمیں قصر کرنا رخصت ہے،اگر کوئی پوری صلاۃ پڑھ لے تو جائز ہے۔