Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 554 (سنن الترمذي)

[554]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا اللُّؤْلُؤِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: بِہَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُعَاذٍ. وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِہِ قُتَيْبَةُ لاَ نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاہُ عَنْ اللَّيْثِ غَيْرَہُ. وَحَدِيثُ اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ مُعَاذٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. رَوَاہُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ. وَبِہَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ. وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ يَقُولاَنِ: لاَ بَأْسَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ فِي وَقْتِ إِحْدَاہُمَا

اس سند سے بھی قتیبہ سے یہ حدیث یعنی معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،۲-قتیبہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ہم ان کے علاوہ کسی کونہیں جانتے جس نے اسے لیث سے روایت کیا ہو،۳-لیث کی حدیث جسے انہوں نے یزیدبن ابی حبیب سے،اوریزیدنے ابوالطفیل سے اورابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے غریب ہے،۴-اہل علم کے نزدیک معروف معاذ کی (وہ) حدیث ہے جسے ابوالزبیرنے ابوالطفیل سے اورابوالطفیل نے معاذسے روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے غزوۂ تبوک میں ظہر اورعصرکوایک ساتھ اور مغرب وعشاء کوایک ساتھ جمع کیا ۱؎،۵-اسے قرہ بن خالد،سفیان ثوری،مالک اور دیگرکئی لوگوں نے بھی ابوالزبیر مکی سے روایت کیا ہے،۶-اوراسی حدیث کے مطابق شافعی کابھی قول ہے،احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ سفرمیں دوصلاۃ کو کسی ایک کے وقت میں ملاکرایک ساتھ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔