Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 597 (سنن الترمذي)

[597]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ مَثْنَی مَثْنَی قَالَ أَبُو عِيسَی اخْتَلَفَ أَصْحَابُ شُعْبَةَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَرَفَعَہُ بَعْضُہُمْ وَأَوْقَفَہُ بَعْضُہُمْ وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللہِ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوُ ہَذَا وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَرَوَی الثِّقَاتُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيہِ صَلَاةَ النَّہَارِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَبِالنَّہَارِ أَرْبَعًا وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَی بَعْضُہُمْ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ مَثْنَی مَثْنَی وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ و قَالَ بَعْضُہُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَرَأَوْا صَلَاةَ التَّطَوُّعِ بِالنَّہَارِ أَرْبَعًا مِثْلَ الْأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَغَيْرِہَا مِنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَقَ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: رات اور دن کی صلاۃ دو دو رکعت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے،بعض نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے اور بعض نے موقوفاً،۲-عبداللہ عمری بطریق: نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ روایت کی ہے۔صحیح وہی ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے،۳-ثقات نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے،اس میں ان لوگوں نے دن کی صلاۃ کا ذکرنہیں کیاہے ۱؎،۴-عبید اللہ سے مروی ہے،انہوں نے نافع سے،اورنافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ رات کودو دو رکعت پڑھتے تھے اور دن کو چار چار رکعت،۵-اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں رات اوردن دونوں کی صلاۃ دودو رکعت ہے،یہی شافعی اوراحمد کا قول ہے،اوربعض کہتے ہیں: رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے،ان کی رائے میں دن کی نفل صلاۃ چار رکعت ہے مثلاً ظہر وغیرہ سے پہلے کی چار نفل رکعتیں،سفیان ثوری،ابن مبارک،اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔