Jamia al-Tirmidhi Hadith 643 (سنن الترمذي)
[643]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (1805)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ يَقُولُ جَاءَ سَہْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَی مَجْلِسِنَا فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَقُولُ إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْعَمَلُ عَلَی حَدِيثِ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الْخَرْصِ وَبِحَدِيثِ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَالْخَرْصُ إِذَا أَدْرَكَتْ الثِّمَارُ مِنْ الرُّطَبِ وَالْعِنَبِ مِمَّا فِيہِ الزَّكَاةُ بَعَثَ السُّلْطَانُ خَارِصًا يَخْرُصُ عَلَيْہِمْ وَالْخَرْصُ أَنْ يَنْظُرَ مَنْ يُبْصِرُ ذَلِكَ فَيَقُولُ يَخْرُجُ مِنْ ہَذَا الزَّبِيبِ كَذَا وَكَذَا وَمِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَيُحْصِي عَلَيْہِمْ وَيَنْظُرُ مَبْلَغَ الْعُشْرِ مِنْ ذَلِكَ فَيُثْبِتُ عَلَيْہِمْ ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الثِّمَارِ فَيَصْنَعُونَ مَا أَحَبُّوا فَإِذَا أَدْرَكَتْ الثِّمَارُ أُخِذَ مِنْہُمْ الْعُشْرُ ہَكَذَا فَسَّرَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ وَبِہَذَا يَقُولُ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے: جب تم تخمینہ لگاؤتوتخمینہ کے مطابق لو اورایک تہائی چھوڑدیاکرو،اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑدیاکرو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ا س باب میں عائشہ،عتاب بن اسید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔۲-تخمینہ لگانے کے سلسلے میں اکثر اہل علم کاعمل سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پرہے اورسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہی کے مطابق احمداور شافعی بھی کہتے ہیں،تخمینہ لگانا یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور کے پھل جن کی زکاۃ دی جاتی ہے پک جائیں تو سلطان (انتظامیہ) ایک تخمینہ لگانے والے کوبھیجے جواندازہ لگاکربتائے کہ اس میں کتناغلّہ یاپھل ہوگا اور تخمینہ لگانا یہ ہے کہ کوئی تجربہ کار آدمی دیکھ کر یہ بتائے کہ اس درخت سے اتنا اتنا انگور نکلے گا،اور اس سے اتنی اتنی کھجور نکلے گی۔پھر وہ اسے جوڑکر دیکھے کہ کتنا عشر کی مقدار کو پہنچا،تو ان پر وہی عشر مقرر کردے۔اور پھل کے پکنے تک اُن کو مہلت دے،پھل توڑنے کے وقت اپناعشر دیتے رہیں۔پھر مالکوں کو اختیار ہوگا کہ بقیہ سے جو چاہیں کریں۔بعض اہل علم نے تخمینہ لگانے کی تشریح اسی طرح کی ہے،اوریہی مالک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔