Jamia al-Tirmidhi Hadith 644 (سنن الترمذي)

[644] إسنادہ ضعیف

ابو داودد (1603،1604) نسائي (2619) ابن ماجہ (1819)

قال المنذري: ’’انقطاعہ ظاہر،لأن مولد سعید (بن المسیب) في خلافۃ عمر ومات عتاب (بن اسید) یوم مات أبوبکر‘‘ (انظر عون المعبود 24/2)

انوار الصحیفہ ص 206

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَارِ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَبْعَثُ عَلَی النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْہِمْ كُرُومَہُمْ وَثِمَارَہُمْ وَبِہَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ إِنَّہَا تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّی زَكَاتُہُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّی زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَی ابْنُ جُرَيْجٍ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَثْبَتُ وَأَصَحُّ

عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺلوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتاتھا۔اسی سند سے ہے کہ نبی اکرمﷺنے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا: اس کابھی تخمینہ لگایا جائے گا،جیسے کھجور کالگایاجاتاہے،پھرکشمش ہوجانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہوجانے کے بعد نکالی جاتی ہے۔(یعنی جب خشک ہوجائیں) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-ابن جریج نے یہ حدیث بطریق: ابن شہاب،عن عروۃ،عن عائشۃ روایت کی ہے،۳-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: ابن جریج کی حدیث محفوظ نہیں ہے اور ابن مسیب کی حدیث جسے انہوں نے عتاب بن اسید سے روایت کی ہے زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔(بس صرف سنداً،ورنہ ضعیف یہ بھی ہے)