Jamia al-Tirmidhi Hadith 662 (سنن الترمذي)
[662] إسنادہ ضعیف
عباد بن منصورضعیف
والحدیث السابق (الأصل: 661) یغني عنہ
وانظر صحیح ابن خزیمہ (ح 2427 بتحقیقی)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ اللہَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُہَا بِيَمِينِہِ فَيُرَبِّيہَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُہْرَہُ حَتَّی إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللہَ ہُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِہِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَ يَمْحَقُ اللہُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ ہَذَا وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ وَمَا يُشْبِہُ ہَذَا مِنْ الرِّوَايَاتِ مِنْ الصِّفَاتِ وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالُوا قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي ہَذَا وَيُؤْمَنُ بِہَا وَلَا يُتَوَہَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ ہَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّہُمْ قَالُوا فِي ہَذِہِ الْأَحَادِيثِ أَمِرُّوہَا بِلَا كَيْفٍ وَہَكَذَا قَوْلُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَہْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وَأَمَّا الْجَہْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ ہَذِہِ الرِّوَايَاتِ وَقَالُوا ہَذَا تَشْبِيہٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابہِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ فَتَأَوَّلَتْ الْجَہْمِيَّةُ ہَذِہِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوہَا عَلَی غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَہْلُ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِنَّ اللہَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِہِ وَقَالُوا إِنَّ مَعْنَی الْيَدِ ہَاہُنَا الْقُوَّةُ و قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيہُ إِذَا قَالَ يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَإِذَا قَالَ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَہَذَا التَّشْبِيہُ وَأَمَّا إِذَا قَالَ كَمَا قَالَ اللہُ تَعَالَی يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلَا يَقُولُ كَيْفَ وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ فَہَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيہًا وَہُوَ كَمَا قَالَ اللہُ تَعَالَی فِي كِتَابہِ لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْءٌ وَہُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ صدقہ قبول کرتاہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتاہے اور اسے پالتاہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کوپالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احدپہاڑ کے مثل ہوجاتا ہے۔اس کی تصدیق اللہ کی کتاب (قرآن) سے ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ فرماتاہےأَلَمْ یَعْلَمُوا أَنَّ اللہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ : (کیا انھیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور صدقات لیتاہے ۔اوروَ یَمْحَقُ اللہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ اللہ سود کو مٹاتاہے اور صدقات کو بڑھاتاہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-نیز عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے،۳-اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اورباری تعالیٰ کے ہررات آسمان دنیاپر اترنے کے بارے میں کہاہے کہ اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں،ان پر ایمان لایاجائے،ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیاجائے گا،اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔اوراسی طرح مالک،سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے،ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہاہے کہ ان حدیثوں کوبلا کیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت والجماعت کے اہل علم کا ہے،البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیاہے،وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ہاتھ،کان،آنکھ کا ذکر کیا ہے۔جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اوران کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیرکے خلاف ہے،وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا،دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہوگی جب کوئی کہے: ید کید أو مثل ید یا سمع کسمع أو مثل سمع (یعنی اللہ کاہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے،یاہمارے ہاتھ کے مانند ہے،اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یاہمارے کان کے مانند ہے) تویہ تشیبہ ہوئی۔(نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے،اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہاہے کہ اس کے ہاتھ کا ن اورآنکھ ہے اوریہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی،یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ(اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے)۔