Jamia al-Tirmidhi Hadith 668 (سنن الترمذي)
[668]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ الْہَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللہِ ثُمَّ رَآہَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَہَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا،پھر دیکھاکہ وہ گھوڑا بیچا جارہاہے تو اسے خریدنا چاہا،نبی اکرمﷺنے فرمایا:اپنا صدقہ واپس نہ لو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اکثر اہل علم کااسی پر عمل ہے۔ وضاحت ۱؎: کیونکہ صدقہ دے کرواپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے،ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہاہے،لیکن جمہورنے اسے کراہت تنزیہی پرمحمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں،قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسااوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتاہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتاہے،نیز بظاہریہ حدیث ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی حدیثلا تحل الصدقۃ إلا لخمسۃ لعامل علیہا أو رجل اشتراہا بما...الحدیثکے معارض ہے،تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث کراہت تنزیہی پرمحمول کی جائیگی اور ابوسعید رضی اللہ عنہ والی روایت بیان جواز پر،یا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اورابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔