Jamia al-Tirmidhi Hadith 686 (سنن الترمذي)

[686] إسنادہ ضعیف

ابو داود (2334) نسائي (2190) ابن ماجہ (1645)

أبو إسحاق مدلس وعنعن

انوار الصحیفہ ص 208

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا فَتَنَحَّی بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيہِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ كَرِہُوا أَنْ يَصُومَ الرَّجُلُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيہِ وَرَأَی أَكْثَرُہُمْ إِنْ صَامَہُ فَكَانَ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَكَانَہُ

صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ۔یہ سن کرایک صاحب الگ گوشے میں ہوگئے اور کہا: میں صائم ہوں،اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے کسی ایسے دن صوم رکھا جس میں لوگوں کوشبہ ہو ۱؎ (کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں) اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابوہریرہ اورانس رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہے،۳-صحابہ کرام اوران کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے،یہی سفیان ثوری،مالک بن انس،عبداللہ بن مبارک،شافعی،احمداور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ان لوگوں نے اس دن صوم رکھنے کو مکروہ قراردیا ہے جس میں شبہ ہو،(کہ رمضان کاچاند ہوا ہے یانہیں) اور ان میں سے اکثر کا خیال ہے کہ اگروہ اس دن صوم رکھے اوروہ ماہ رمضان کادن ہوتووہ اس کے بدلے ایک دن کی قضاکرے۔