Jamia al-Tirmidhi Hadith 726 (سنن الترمذي)

[726] إسنادہ ضعیف

أبو عاتکۃ: ضعیف،وبالغ السلیماني فیہ (تقریب: 8193)

انوار الصحیفہ ص 209

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاتِكَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ اشْتَكَتْ عَيْنِي أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُہُ بِالْقَوِيِّ وَلَا يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا الْبَابِ شَيْءٌ وَأَبُو عَاتِكَةَ يُضَعَّفُ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي الْكُحْلِ لِلصَّائِمِ فَكَرِہَہُ بَعْضُہُمْ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الْكُحْلِ لِلصَّائِمِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر پوچھا: میری آنکھ آگئی ہے،کیا میں سرمہ لگالوں،میں صوم سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں (لگالو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-انس کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے،۲-اس باب میں نبی اکرمﷺ سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں،۳-ابوعاتکہ ضعیف قراردیے جاتے ہیں،۴-اس باب میں ابورافع سے بھی روایت ہے،۵-صائم کے سرمہ لگانے میں اہل علم کا اختلاف ہے،بعض نے اسے مکروہ قراردیاہے ۱؎ یہ سفیان ثوری،ابن مبارک،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے اور بعض اہل علم نے صائم کو سرمہ لگانے کی رخصت دی ہے اور یہ شافعی کا قو ل ہے۔