Jamia al-Tirmidhi Hadith 788 (سنن الترمذي)

[788]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (405)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْبَغْدَادِيُّ الْوَرَّاقُ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ قَال سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِہَ أَہْلُ الْعِلْمِ السُّعُوطَ لِلصَّائِمِ وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُہُ وَفِي الْبَابِ مَا يُقَوِّي قَوْلَہُمْ

لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔آپ نے فرمایا: کامل طریقے سے وضو کرو،انگلیوں کے درمیان خلال کرواور ناک میں پانی سُرکنے میں مبالغہ کرو،إلا یہ کہ تم صوم سے ہو۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-اہل علم نے صائم کے لیے ناک میں پانی سُرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہاہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے صوم ٹوٹ جاتاہے،۳-اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔