Jamia al-Tirmidhi Hadith 870 (سنن الترمذي)
[870]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ بِقُلْ يَا أَيُّہَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ فِي ہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ
محمد(بن علی الباقر) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ اور قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-سفیان کی جعفر بن محمدعن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،۲-اور (سفیان کی روایت کردہ) جعفر بن محمدکی حدیث جسے وہ اپنے والد (کے عمل سے) سے روایت کرتے ہیں (عبدالعزیز کی روایت کردہ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں ۱؎،۳-عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔