Jamia al-Tirmidhi Hadith 889 (سنن الترمذي)
[889]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (2714)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ أَتَوْا رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ بِعَرَفَةَ،فَسَأَلُوہُ. فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَی الْحَجُّ عَرَفَةُ. مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ. أَيَّامُ مِنًی ثَلاَثَةٌ. فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْہِ،وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْہِ. قَالَ: وَزَادَ يَحْيَی وَأَرْدَفَ رَجُلاً فَنَادَی
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے،اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کوحکم دیا تواس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ۱؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آجائے،اس نے حج کو پالیا ۲؎ منی کے تین دن ہیں،جوجلدی کرے اوردودن ہی میں چلاجائے تو اس پرکوئی گناہ نہیں اورجودیرکرے تیسرے دن جائے تو اس پربھی کوئی گناہ نہیں۔(یحیی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایااور اس نے آوازلگائی۔