Jamia al-Tirmidhi Hadith 890 (سنن الترمذي)
[890]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَائٍ،عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ بِمَعْنَاہُ. و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ. وَہَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاہُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَی: وَالْعَمَلُ عَلَی حَدِيثِ عَبْدِالرَّحْمَانِ بْنِ يَعْمَرَ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ أَنَّہُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ فَاتَہُ الْحَجُّ. وَلاَ يُجْزِئُ عَنْہُ إِنْ جَاءَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ. وَيَجْعَلُہَا عُمْرَةً وَعَلَيْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ. وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ. قَالَ أَبُوعِيسَی: وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَائٍ نَحْوَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ . قَالَ: و سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا أَنَّہُ ذَكَرَ ہَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: ہَذَا الْحَدِيثُ أُمُّ الْمَنَاسِكِ.
ابن ابی عمر نے بسند سفیان بن عیینہ عن سفیان الثوری عن بکیربن عطاء عن عبدالرحمٰن بن یعمرعن النبی ﷺ اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: قال سفیان بن عیینہ،اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے،۲-وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہاکہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ام المناسک کی حیثیت رکھتی ہے،۳-صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا،اس کا حج فوت ہوگیا،اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تویہ اسے کافی نہیں ہوگا۔اسے عمرہ بنالے اور اگلے سال حج کرے،یہ ثوری،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔