Jamia al-Tirmidhi Hadith 915 (سنن الترمذي)

[915]حسن

وانظر مشکوۃ المصابیح (4485) مشکوۃ المصابیح (2653)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ،عَنْ ہَمَّامٍ،عَنْ خِلاَسٍ نَحْوَہُ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِيہِ عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَی: حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيہِ اضْطِرَابٌ. وَرُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَہَی أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَہَا. وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ عَلَی الْمَرْأَةِ حَلْقًا. وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْہَا التَّقْصِيرَ

اس سند سے بھی خلا س سے اسی طرح مروی ہے،لیکن اس میں انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اضطراب ہے،یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: قتادۃ،عن عائشۃ،عن النبی ﷺ مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عورت کو اپنا سرمونڈانے سے منع فرمایا،۲-اہل علم کااسی پرعمل ہے،وہ عورت کے لیے سرمنڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پرتقصیر(بال کتروانا)ہے۔