Jamia al-Tirmidhi Hadith 920 (سنن الترمذي)

[920] إسنادہ ضعیف

ابو داود (2000) ابن ماجہ (3059)

أبو الزبیر مدلس ولم أجد تصریح سماعہ

وتابعہ محمد بن طارق ولکنہ عن طاووس: مرسل

انوار الصحیفہ ص 213

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَی اللَّيْلِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي أَنْ يُؤَخَّرَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ إِلَی اللَّيْلِ وَاسْتَحَبَّ بَعْضُہُمْ أَنْ يَزُورَ يَوْمَ النَّحْرِ وَوَسَّعَ بَعْضُہُمْ أَنْ يُؤَخَّرَ وَلَوْ إِلَی آخِرِ أَيَّامِ مِنًی

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲؎،۲-بعض اہل علم نے طواف زیارت کورات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کومستحب قراردیاہے،لیکن بعض نے اُسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخرکرنے کی گنجائش رکھی ہے۔