Jamia al-Tirmidhi Hadith 930 (سنن الترمذي)

[930]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (2528)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّہُ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا ذُكِرَتْ الْعُمْرَةُ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَعْتَمِرَ الرَّجُلُ عَنْ غَيْرِہِ وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُہُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ

ابورزین عقیلی لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں،وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہوکرسفرکرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اورعمرہ کرلو۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-عمرے کا ذکرصرف اسی حدیث میں مذکورہواہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔