Jamia al-Tirmidhi Hadith 962 (سنن الترمذي)
[962] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (3083)
فرقدالسبخي: ضعیف من جھۃ حفظہ،ضعفہ الجمہور وفی التحریر (5384): ’’ضعیف‘‘
والحدیث صوابہ موقوف کما في صحیح البخاري (1538)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَدَّہِنُ بِالزَّيْتِ وَہُوَ مُحْرِمٌ غَيْرِ الْمُقَتَّتِ قَالَ أَبُو عِيسَی الْمُقَتَّتُ الْمُطَيَّبُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ وَرَوَی عَنْہُ النَّاسُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اوریہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتاتھا ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے،اسے ہم صرف فرقدسبخی کی روایت سے جانتے ہیں،اورفرقدنے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے،اورفرقدسے لوگوں نے روایت کی ہے،۲-مقتت کے معنی خوشبو دار کے ہیں۔