Jamia al-Tirmidhi Hadith 985 (سنن الترمذي)

[985] إسنادہ ضعیف

أبو حمزۃ مسلم بن کیسان الأعور ضعیف (تقریب: 6641)

انوار الصحیفہ ص 214

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

دَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَانِ الْمَخْزُومِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ،عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،عَنْ أَبِي حَمْزَةَ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ،عَنْ عَبْدِاللہِ،نَحْوَہُ. وَلَمْ يَرْفَعْہُ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِيہِ وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ. قَالَ أَبُو عِيسَی: وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ،وَأَبُو حَمْزَةَ. ہُوَ مَيْمُونٌ الأَعْوَرُ. وَلَيْسَ ہُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَی: حَدِيثُ عَبْدِاللہِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ كَرِہَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ النَّعْيَ. وَالنَّعْيُ عِنْدَہُمْ أَنْ يُنَادَی فِي النَّاسِ أَنَّ فُلاَنًا مَاتَ،لِيَشْہَدُوا جَنَازَتَہُ. و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ: لاَ بَأْسَ أَنْ يُعْلِمَ أَہْلَ قَرَابَتِہِ وَإِخْوَانَہُ. وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ أَنَّہُ قَالَ: لاَ بَأْسَ بِأَنْ يُعْلِمَ الرَّجُلُ قَرَابَتَہُ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے،اورراوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکرنہیں کیا ہے کہ نعی موت کے اعلان کانام ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،۲-یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے،۳-ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں،یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں،۴-بعض اہل علم نے نعی کو مکروہ قراردیاہے،ان کے نزدیک نعی یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیاجائے کہ فلاں مرگیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں،۵-بعض اہل علم کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کواس کے مرنے کی خبردی جائے،۶-ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کواس کے اپنے کسی قرابت دارکے مرنے کی خبردی جائے۔